ہفتہ 26 ستمبر 2026 - 16:11
سیاسی اختلافات کی سزا عام شہریوں کو دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں: مولانا علی حیدر فرشتہ

حوزہ/ حوزۃ الامام القائم الدینیہ حیدرآباد دکن کے پرنسپل و مدیر مولانا علی حیدر فرشتہ نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں اور ایران ایئر کی پروازوں پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں زائرین، طلبہ اور مریضوں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات اور بین الاقوامی تنازعات کی سزا عام شہریوں کو دینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزۃ الامام القائم الدینیہ حیدرآباد دکن کے پرنسپل و مدیر مولانا علی حیدر فرشتہ نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں اور ایران ایئر کی پروازوں پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں زائرین، طلبہ اور مریضوں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات اور بین الاقوامی تنازعات کی سزا عام شہریوں کو دینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

مولانا علی حیدر فرشتہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران اور دیگر ایرانی ائیرلائنز کے خلاف عائد کردہ پابندیوں اور ایران ایئر کی پروازوں پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں ہندوستان، پاکستان اور دیگر ممالک سے ایران و عراق جانے والے زائرین، حوزہ ہائے علمیہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور علاج کی غرض سے سفر کرنے والے مریض شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بالخصوص نجف اشرف اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرنے والے ہزاروں زائرین کی آمد و رفت متاثر ہونا ایک انتہائی تشویش ناک مسئلہ ہے، جسے محض سیاسی کشمکش کے تناظر میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا علی حیدر فرشتہ نے کہا کہ زائرین کی مذہبی عقیدت، طلبہ کی تعلیمی ضروریات اور مریضوں کے علاج کو سیاسی پابندیوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پابندیوں کے نتیجے میں مریض علاج سے محروم ہوں، طلبہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکیں اور زائرین اپنے مذہبی و روحانی سفر میں مشکلات کا شکار ہوں تو یہ انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اور بین الاقوامی تنازعات کی سزا عام شہریوں کو دینا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کے اثرات صرف سیاسی اور حکومتی حلقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کا بوجھ عام شہریوں، بے گناہ مسافروں، مریضوں، طلبہ اور مذہبی زائرین کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی سیاسی پالیسیوں سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ اس ملک کے عوام کو بنیادی انسانی سہولتوں، علاج، تعلیم، مذہبی زیارت اور آزادانہ سفر کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ بین الاقوامی اختلافات کے باوجود عام شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔

مولانا علی حیدر فرشتہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ عام شہریوں، زائرین، طلبہ اور مریضوں کو متاثر کرنے والی پابندیوں پر فوری نظرثانی کرے اور انسانی بنیادوں پر فضائی سفر کی سہولت بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص ایسی تمام رکاوٹیں ختم کی جانی چاہئیں جو ایران اور عراق کے درمیان زائرین، طلبہ اور مریضوں کی آمد و رفت میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

انہوں نے ہمسایہ ممالک سے بھی اپیل کی کہ انسانی ہمدردی، باہمی حقوق اور ہمسایہ داری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ہوائی اڈوں پر ایران کی پروازوں کو اترنے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا اور عوامی مشکلات کو سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے عراق کی حکومت اور متعلقہ حکام سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نجف اشرف اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آنے والے زائرین کی مشکلات کو محسوس کیا جائے اور ان کے لیے فضائی سفر کی سہولت فراہم کی جائے، تاکہ ہندوستان، پاکستان اور دیگر ممالک سے آنے والے زائرین بلا رکاوٹ اپنے مذہبی سفر کو جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان فضائی آمد و رفت میں رکاوٹ سے صرف عام مسافر ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ ان زائرین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے جو نجف اشرف اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے کو انسانی اور مذہبی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا علی حیدر فرشتہ نے سعودی عرب کے حکام سے بھی اپیل کی کہ جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات واقع ہیں، وہاں انسانی بنیادوں پر ایران ایئر کی پروازوں کو اپنے ہوائی اڈوں پر اترنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے بالخصوص ان مریضوں کی مشکلات کی طرف توجہ دلائی جنہیں علاج کی غرض سے سفر کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے شام سمیت دیگر ممالک کے حکام سے بھی اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتحال میں انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران ایئر کی پروازوں کے لیے اپنے ہوائی اڈے کھولیں، تاکہ عام شہریوں، مریضوں، طلبہ اور زائرین کو سفری مشکلات سے نجات مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ حق و انصاف اور انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ہمسایہ ممالک سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کی مشکلات کو سمجھیں اور ان کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ مذہبی زائرین کی آمد و رفت، طلبہ کی تعلیم اور مریضوں کے علاج کو سیاسی کشمکش سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

مولانا علی حیدر فرشتہ نے عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم ممالک کی حکومتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس انسانی مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور متاثرہ زائرین، طلبہ، مریضوں اور دیگر مسافروں کی مشکلات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی جان، علاج، تعلیم اور مذہبی آزادی کو سیاسی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ کسی بھی پابندی کے نتیجے میں اگر بے گناہ شہریوں کی زندگی، تعلیم، علاج اور مذہبی سفر متاثر ہو تو اس کے انسانی اثرات پر ضرور توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور تمام متعلقہ ممالک کو چاہیے کہ عام شہریوں کو سیاسی کشمکش کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں اور زائرین، طلبہ اور مریضوں کے لیے بلا رکاوٹ فضائی سفر کی سہولت فراہم کی جائے۔

مولانا علی حیدر فرشتہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت، ہمسایہ داری اور مذہبی آزادی کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے عام شہریوں کو درپیش موجودہ سفری مشکلات کم ہو سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha